ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پرائیویٹ تعلیمی ادارے ’’کے ای اے‘‘ کی نگرانی میں ریاستی حکومت کے فیصلہ سے اسکول انتظامیہ ناراض

پرائیویٹ تعلیمی ادارے ’’کے ای اے‘‘ کی نگرانی میں ریاستی حکومت کے فیصلہ سے اسکول انتظامیہ ناراض

Mon, 27 Mar 2017 11:01:34    S.O. News Service

بنگلورو:26/مارچ(ایس اونیوز) ہرسال پرائیویٹ اسکولوں میں فیس بڑھادی جاتی ہے جس سے والدین کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ چونکہ بچوں کو تعلیم دلانا ضروری ہے اس لئے والدین نہ چاہتے ہوئے بھی اسکول کی جانب سے مطلوبہ فیس اداکرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے نیا حکم نامہ والدین کے لئے باعث مسرت وراحت کی خبر ہے۔ ان خیالات کا اظہار اخباری نمائندوں کو اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے رضی نامی ایک شخص نے کیا جس کا بچہ ایک پرائیویٹ اسکول میں زیر تعلیم ہے۔ واضح ہوکہ ریاستی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ پرائیویٹ اسکول انتظامیہ کی جانب سے ہرسال فیس میں اضافہ پر لگام لگایا جائے۔ اس لئے تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو کرناٹکا اگزامینشن اتھارٹی (کے ای اے) ایکٹ 1983ء کے تحت کے ای اے کو نگران بنایا جائے۔ حالانکہ اس سے پرائیویٹ اسکول انتظامیہ خوش نہیں ہیں۔ ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق اس فیصلہ پر اعتراض کرتے ہوئے مینجمنٹ آف انڈپنڈنٹ سی بی ایس ای اسکولس اسوسی ایشن (ایم آئی سی ایس اے) کے صدر سری نواس نے اس سلسلہ میں اخباری نمائندوں کو بتایاکہ تمام پرائیویٹ تعلیمی ادارے حکومت کی جانب سے جاری احکامات کی پابندی کررہے ہیں۔ اس کے باوجود اس طرح کے فیصلے ہمارے لئے مناسب نہیں ہیں۔ سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای اسکولوں کو کے ای اے کے ماتحت کرنا حکومت کی جانب سے زبردستی اپنا فیصلہ تھونپنے کے مترادف ہے۔ اس لئے ریاستی حکومت کو اس پر پھر سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسوسی ایشن میں اس فیصلہ کو لے کر بے چینی پائی جاتی ہے۔ ہم اس سلسلہ میں عنقریب کوئی اہم فیصلہ لیں گے۔ ضرورت پڑی تو ہم اس کے خلاف عدالت تک جائیں گے۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ حکومت کے تمام فیصلوں پر عمل آوری کے لئے تیار ہیں۔ مگر فیس کے معاملہ میں حکومت کا مداخلت ہمیں منظور نہیں ہے۔ ایم آئی سی ایس اے کے سکریٹری منصور علی خان نے اس سلسلہ میں اخباری نمائندوں کو بتایاکہ تمام تعلیمی ادارے حکومت کے مطابق چلائے جارہے ہیں۔ ان میں سے اگر کسی ایک یا دو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں قانون کی خلاف ورزی ہورہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام اسکولوں میں ایسا ہی ہورہاہے۔ انہوں نے کہاکہ جہاں قانون کی خلاف ورزی ہورہی ہے حکومت کو چاہئے کہ اس کی نشاندہی کرکے قانونی کارروائی کرے۔ 


والدین میں خوشی کی لہر:حکومت کے اس فیصلہ سے والدین میں خوشی کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ شہر کے ایک پرائیویٹ اسکول میں زیر تعلیم دوبچوں کے والدین نے اس سلسلہ میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے فیس پر لگام لگانے کے لئے جو فیصلہ لیاہے وہ قابل ستائش ہے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے بتایاکہ ان کے 2؍بچے پرائیویٹ اسکول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان کی فیس اداکرنے میں انہیں کافی دشواریاں پیش آتی ہیں۔ ان کی مالی حالت اچھی نہیں ہے۔ مگر مجبوری کے تحت انہیں ہر سال ایک خطیر رقم بطور فیس اداکرنی پڑتی ہے۔ روزی نامی ایک خاتون نے اس سلسلہ میں بتایاکہ پرائیویٹ اسکول انتظامیہ فیس کے معاملہ میں بہت من مانی کررہے ہیں۔ بغیر پیشگی اطلاع فیس میں ہرسال اضافہ کردیتے ہیں جس سے والدین کو بہت پریشانی ہوتی ہے۔ تعلیمی سال شروع ہوتے ہیں والدین کو اس کی فکر ستانے لگتی ہے کہ انہیں اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے لئے فیس کی رقم جمع کرنی ہے۔ چونکہ والدین کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ کسی دوسرے اسکول میں نہیں جاسکتے ۔ اس لئے کہ نیا داخلہ کے نام پر انہیں مزید رقم اداکرنی پڑے گی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس پر عمل آوری ہوگی یا پھر قانونی ہیرا پھیری کے ذریعہ یہ فیصلہ بھی سردخانہ کی نذر ہوجائے گا۔


Share: